خرید بک لینک

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ہندوستان کے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نے نئی دہلی میں مظاہرہ کر کے انتہا پسند ہندوؤں کے اشتعال انگیز اقدامات اور اترپردیش کے علاقے گوتم بدھ نگر میں ایک مسلمان کے قتل پر احتجاج کیا۔ مظاہرین نے وزیراعظم نریندر مودی، اترپردیش کے وزیراعلی اور آر ایس ایس کے رکن انتہا پسند ہندوؤں کے خلاف نعرے لگائے اور اس قسم کے فرقہ وارانہ اقدامات کو روکنے کے لیے نئی دہلی حکومت سے فوری اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔

انتہا پسند ہندوؤں نے چند روز قبل پچاس سالہ مسلمان محمد اخلاق کو گائے کا گوشت رکھنے کی افواہ پر تشدد کر کے قتل کر دیا تھا جبکہ ان کا بیٹا بھی تشدد سے زخمی ہو گیا تھا۔ یہ سب کچھ ایسے حالات میں ہوا کہ جب پولیس کے بقول محمد اخلاق کے گھر میں گائے کا گوشت موجود نہیں تھا۔

ہندوستانی حکومت کی مخالف جماعتوں اور گروہوں نے انتہا پسند ہندوؤں کے اس گھناؤنے اقدام پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے ملک میں فرقہ وارانہ تشدد کی ترویج کا ایک اور نمونہ قرار دیا ہے کہ جس پر حکومتی عہدیداروں نے معنی خیز خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

سماج وادی پارٹی کے رہنما اعظم خان نے لکھنئو میں حکومتی عہدیداروں کی خاموشی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس سلسلے میں انصاف کے حصول کے لیے اقوام متحدہ سے شکایت کریں گے۔ انھوں نے ہندوستان کے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ انتہاپسند ہندوؤں کے اس قسم کے اشتعال انگیز اقدامات پر ردعمل ظاہر کریں۔ اعظم خان نے اس بات پر زور دیا کہ حکمراں جماعت بی جے پی اس قسم کے اشتعال انگیز اقدامات کی حمایت کرتی ہے۔

قوم پرست جماعت بی جے پی کے ہندوستان میں اقتدار میں آنے کے بعد انتہا پسند ہندوؤں نے اس ملک کی اقلیتوں کے خلاف اپنے حملے تیز کر دیے ہیں اور شیو سینا اور آر ایس ایس جیسے انتہا پسند ہندو گروہ اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں کو بلاجھجھک نشانہ بنا رہے ہیں۔

ہندوستان کے وزیر خزانہ ارون جیٹلی کے مطابق ایسی صورت حال سے عالمی برادری میں ہندوستان کی پوزیشن کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ اسی دوران جو چیز ہندوستانی معاشرے کو زیادہ پریشان کر رہی ہے وہ فرقہ وارانہ جنگ شروع کرنے کے تناظر میں اقلیتوں کے خلاف انتہا پسند ہندوؤں کے منصوبہ بند حملوں کا جاری رہنا ہے۔

بی جے پی کے رہنما سنگیت سم نے اترپردیش میں ایک مسلمان کے قتل کی حمایت کرتے ہوئے اسے گائے کے گوشت کے استعمال کا مناسب جواب قرار دیا ہے۔ یہ ایسے وقت میں ہے کہ جب نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان کی مرکزی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں قومی وحدت و اتحاد کو مضبوط بنانا اور اقتصادی ترقی نیز فلاح و بہبود کے کام انجام دینا اس کے پروگراموں میں شامل ہے۔ یہ ایسے پروگرام ہیں کہ جن پر عمل درآمد کے لیے ہندوستان میں ہر قسم کی انتہا پسندی اور فرقہ پرستی کا مقابلہ کرنا ہو گا تاکہ اس ملک کے تمام شہری پرامن زندگی گزار سکیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ محمد اخلاق کے قتل میں ملوث ہونے کے الزام میں گیارہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور مقتول کے اہل خانہ بھی مجرموں کو سزا دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس بنا پر محمد اخلاق کا قتل کیس ہندوستان کی عدلیہ اور انتظامیہ کے لیے ایک ٹیسٹ کیس ہے کہ مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے تاکہ ہندوستان میں آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ہو سکے۔

برچسب: نویسنده: تعلیم رضا جعفری تاريخ: 17 / 7 ساعت: 8:12 AM

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ہندوستان کے دار الحکومت دہلی میں اہل بیت(ع) اسمبلی ہندوستان کی جانب سے منعقدہ پیغام عاشورہ کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سکریٹری جنرل نے مسلمانوں کے درمیان اتحاد پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ اتحاد وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔
آیت اللہ محمد حسن اختری نے پیغام عاشورہ کے سائے میں پیغام اتحاد کو عام کرنے کی تاکید کی اور کہا: کربلا کا پیغام دنیا میں امن و امان اور وحدت و اتحاد قائم کرتا ہے واقعہ کربلا نے انسانی افکار کو نئی روح اور زندگی عطا کی ہے۔ راہ خدا پر جینے کا سلیقہ اور مرنے کا ہنر سکھایا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کربلا کا سب سے عظیم پیغام یہی ہے کہ ظالم کے خلاف آواز اٹھائی جائے اور مظلوم کے ساتھ اظہار ہمدردی کی جائے۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سکریٹری جنرل نے کہا کہ ہمیں اسلام دشمن سازشوں خاص طور سے داعش جیسی گمراہ کن تنظیموں سے بہت ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔۔
پیغام عاشورہ کانفرنس کی صدارت کرتے ہوئے رہبر انقلاب اسلامی کے ہندوستان میں نمائندے حجۃ الاسلام آقائے مھدی مھدوی پور نے محرم کو مقصد شہادت امام حسین(ع) کو پہنچانے کا بہترین موقع قرار دیا اور کہا کہ محرم اور عاشورہ سے زیادہ سے زیادہ اسلامی اقدار کو عام کرنے، وحدت و اخوت کو بڑھاوا دینے اور اصحاب حسینی کے پیغام کو عام لوگوں تک پہنچانے کے لیے استفادہ کیا جائے۔

برچسب: نویسنده: تعلیم رضا جعفری تاريخ: 17 / 7 ساعت: 6:33 AM

بسمه سبحانه تعالی

 

حقیقت سحر در اسلام

 

انجام كارهاى خارق العاده و تصرفات غير عادى در طبيعت و اشخاص، از ديرباز مورد علاقه بعضى از افراد بشر بوده كه با يادگيرى و انجام آن خود را مشغول مى‏كردند، يكى از وسايل انجام اين نوع كارها سحر است. سحر دانشى است كه با استفاده از نيروهاى مخفى در طبيعت و يا نيروهاى غيبى به دست مى‏آيد و به وسيله آن كارهاى شگفت آورى انجام مى‏شود كه اكثر مردم به انجام آنها قدرت ندارند.

مى توان مجموع كارهاى خارق العاده‏اى را كه به سحر نسبت داده مى‏شود به چهار قسمت تقسيم كرد

1: كارهايى كه با استفاده از خواص اشياء و از راه علومى چون شيمى و فيزيك و مكانيك و مانند آنها مى‏توان انجام داد و تركيبات شيميايى خاصى به وجود آورد كه آثار غير عادى دارند و يا با استفاده از قوانين مختلف فيزيك و مكانيك كارهاى شگفتى را در معرض ديد طرف مقابل قرار داد

معلوم نيست كه اطلاق سحر به اين نوع كارها درست باشد ولى چون به هر حال كارهاى خارق العاده‏اى انجام مى‏گيرد، ممكن است بعضى از كسانى كه به خواص اشياء وارد نيستند آن را سحر تلقى كنند

2: كارهايى كه با تردستى و شعبده بازى و با استفاده از سرعت انجام عمليات و سلب قدرت تفكر از طرف مقابل انجام مى‏گيرد بگونه‏اى كه مقدمات كار چنان سريع و با شتاب حاصل مى‏شود كه بيننده از آن غافل مى‏شود و فقط نتيجه را مى‏بيند

3: استفاده از تلقين و مجسم كردن انديشه‏ها و اوهام طرف مقابل در نظر او بهصورتى كه تخيلات او به شكل واقعيت عينى جلوه كند و او در عالم تخيلات زندگى كند و از واقعيات غافل باشد همانگونه كه انسان در عالم رؤيا چيزهاى خارق العاده‏اى را مى‏بيند و در يك لحظه از شهرى به شهرى مى‏رود و يا دو شخص را كه فرسنگها با هم فاصله دارند در يكجا ملاحظه مى‏كند

4: استفاده از عالم مجردات و برقرارى رابطه با شياطين و ارواح و اجنّه و بعضى از نيروهاى غيبى به گونه‏اى كه آن نيروها را به كار گيرد و توسط آنها يا از آينده خبر بدهد و يا دست به كارهاى خارق العاده‏اى بزند.

 

اشکال:

البته بعضيها اين كار (چهارم) را غير ممكن و غير واقعى مى‏دانند و معتقدند كه ارتباط با مجردات و استفاده از نيروهاى آنان امكان ندارد و هر چه در اين باره گفته شده يا دروغ است و يا ناشى از اوهام و تخيلات افرادى است كه دست به اين كار مى‏زنند. از جمله دانشمندان پيشين ما كه اين معنا را ردّ كرده است، مرحوم علامه حلى است كه در قواعد پس از تعريف سحر مى‏گويد: قول صحيح اين است كه سحر حقيقت ندارد و آن تنها يك نوع تخيل است[1].

دفع اشکال:

ولى به نظر مى‏رسد كه نمى‏توان اين قسم از سحر را به كلى نفى كرد چون دليلى بر نفى آن نداريم همانگونه بر اثبات آن دليل روشنى نداريم بنابراين بهتر است كه احتمال هر دو طرف را بدهيم

در همين جا روايتى را درباره حقيقت سحر از امام صادق (ع) داریم که:

آن حضرت در پاسخ اين پرسش كه حقيقت سحر چيست؟ فرمودند: سحر بر چند قسم است

(1) قسمى به منزله طبّ است همانگونه كه اطبا معالجه مى‏كنند و براى هر مرضى دوايى دارند همين‏طور ساحران هم براى هر صحتى آفتى و براى هر عافيتى مصيبتى و حيله‏هايى دارند.

(2) قسم ديگر كارهايى است كه با سرعت انجام مى‏گيرد و قسم ديگر چيزهايى است كه دوستان شياطين از آنها مى‏گيرند[2].

سحر از نظر معنى و مفهوم

برای روشن شدن معنى و مفهوم باید از لغات و استعمالات این کلمه کمک بگیریم.

سحر- يعنى نيرنگ، خيالات باطل، عملى كه بسرعت دست انجام گيرد و چشم را باشتباه اندازد مانند عمل شعبده‏بازها

مرحوم طبرسى نوشته: سحر و كهانت و حيله نظير هم‏اند- چنانكه در آيه 116 سوره اعراف ميفرمايد:  فَلَمَّا أَلْقَوْا سَحَرُوا أَعْيُنَ النَّاسِ وَ اسْتَرْهَبُوهُمْ  و از اين ماده است

ساحر- يعنى سحر كننده و جمعش ساحرون و سحرة است -چنانكه در آيه 77 سوره يونس و 70 سوره طه ميفرمايد:  أَ سِحْرٌ هذا وَ لا يُفْلِحُ السَّاحِرُونَ- فَأُلْقِيَ السَّحَرَةُ سُجَّداً.

سحّار- صيغه مبالغه يعنى بسيار سحر كننده، ساحر بسيار ما هر - چنانكه در آيه 36 سوره شعراء ميفرمايد: يَأْتُوكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيمٍ مسحور-

و مسحر- يعنى سحر شده چنانكه در آيه 8 سوره فرقان و 153 سوره شعراء ميفرمايد : وَ قالَ الظَّالِمُونَ إِنْ تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجُلًا مَسْحُوراً- قالُوا إِنَّما أَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِينَ. [3]

صاحب تفسیرانوار درخشان می فرماید که :

السِّحْرَ اسم مصدر و عبارت از قدرت نفسانى و حكفرمائى نسبت بقواى متخيّله و حواسّ ظاهره مردم كوتاه نظر است به اين كه واقعه‏ئى را بر خلاف حقيقت بآنان ارائه داده و در قوا و حواسّ آنان مجسّم نمايد

و سبب پيدايش قوّه نفسانيّه در ساحر همانا رياضات روحى و جوارحى است كه بتواند احساسات مردم را تسخير كند و هر چه را كه خود پنداشته مردم نيز چنان پندارند بطوريكه بر حواسّ آنان نيز آشكار گردد هم چنانكه سحر را تعريف فرموده در كريمه «يُخَيَّلُ إِلَيْهِ مِنْ سِحْرِهِمْ أَنَّها تَسْعى‏» طه: 66 يعنى سحر عبارت از احاطه بر قواى خياليّه و حواسّ ظاهره مردم است كه چنان پنداشته و مشاهده كنند و بديهى است پس از اندك زمانى بر حسب شدّت و ضعف توانائى ساحر حقيقت آشكار گردد[4].

صاخب تفسیر حجة التفاسير و بلاغ الإكسيردر مورد سحر و مثل اینها می فرماید که :

سحر: سخن يا نوشته‏ئى است كه بسبب آن ضررى ببدن يا عقل مسحور برسد.

كهانه: بكسر كاف [و بفتح آن- صحاح‏] عملى است كه موجب فرمانبردار ساختن بعض جن است كه اوامر تسخير كننده را انجام بدهد و آنهم قريب به سحر است يا سحر، اعم است

قيافه: يعنى استناد به علامات و اماراتى كه براى الحاق نسب و امثال آن باشد و آن حرام است اگر ترتيب اثر بآن داده شود

شعبده: افعالى عجيب است كه از تردستى حاصل ميشود و بر ديد چشم مشتبه مى‏گردد[5].

استعمالات کلمه سحر در قرآن:

و در ضمن آيات قرآن بمعانى مختلفى بكار برده شده از آن جمله است:

(1) بمعنى علم چنانكه در آيه 49 سوره زخرف ميفرمايد:  وَ قالُوا يا أَيُّهَا السَّاحِرُ ادْعُ لَنا رَبَّكَ: يعنى:بموسى گفتند اى كسى كه ادعاى علم و آگاهى دارى از خداى خود تعهدى كه دارى بخواه .

(2) بمعنى دروغ چنانكه در آيه 116 سوره اعراف ميفرمايد: وَجاؤُ بِسِحْرٍ عَظِيمٍ يعنى ساحران فرعون سحر و دروغى بس عظيم و هول‏انگيز برپا ساختند .

(3) بمعنى چشم‏بندى چنانكه در آيه 116 سوره اعراف ميفرمايد: سَحَرُوا أَعْيُنَ النَّاسِ وَ اسْتَرْهَبُوهُمْ  يعنى ساحران چون بساط انداختند به جادوگرى چشم خلق بستند و مردم سخت هراسان شدند.

(4) بمعنى ديوانه چنانكه در آيه 8 سوره فرقان ميفرمايد: وَ قالَ الظَّالِمُونَ إِنْ تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجُلًا مَسْحُوراً يعنى ستمكاران بمردم گفتند كه شما از مردى جز ديوانه پيروى و تبعيت نميكنيد .

(5) بمعنى رو گردان شدن از حق است چنانكه در آيه 89 سوره مؤمنين ميفرمايد: قُلْ فَأَنَّى تُسْحَرُونَ يعنى اى پيامبر به گمراهان بگو بچه علّتى از حق تعالى روى گردان ميشويد[6].

محورهای استعمالات کلمه سحر در قرآن  :

اکنون ما ببينيم كه در قرآن كريم راجع به سحر چه مطالبى آمده است؟

واژه سحر و مشتقات آن حدود شصت مرتبه در قرآن آمده است و بيشتر در دو محور دور مى‏زند

محور اول:

نخست درباره ساحران عهد حضرت موسى (ع) كه فرعون آنها را از همه جا جمع كرده بود و آنها تمام قدرت خود را متمركز كردند و ريسمانها را به صورتى درآوردند كه گويا مارند و مثل مار به حركت در آمدند و چون موسى عصاى خود را انداخت تمام آنها را بلعيد و سحرشان باطل شد

محور دوم:

در مورد تهمتهايى كه مخالفان پيامبران و از جمله مخالفان پيامبر اسلام به پيامبران مى‏زدند و آنها را ساحر و جادوگر قلمداد مى‏كردند

راجع به محور نخست يعنى داستان ساحران فرعون به چند آيه توجه كنيد

فَلَمَّا أَلْقَوْا سَحَرُوا أَعْيُنَ النَّاسِ وَ اسْتَرْهَبُوهُمْ وَ جاؤُ بِسِحْرٍ عَظِيمٍ (اعراف/ 116) و چون انداختند، چشمهاى مردم را سحر كردند و آنها را ترسانيدند و سحر بزرگى آوردند

قالَ بَلْ أَلْقُوا فَإِذا حِبالُهُمْ وَ عِصِيُّهُمْ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ مِنْ سِحْرِهِمْ أَنَّها تَسْعى‏ (طه/ 66) گفت: بلكه شما بياندازيد پس ناگاه ريسمانها و چوب دستيهاى آنان از سحرشان به موسى چنان وانمود شدكه مى‏دَوَند

البته در قبل و بعد اين دو آيه آمده است كه فرعون ساحران را از همه جا گرد آورده بود و چون سحر آنها باطل شد همگى در مقابل موسى تسليم شدند و به او ايمان آوردند و فرعون به آنها گفت: چرا به او ايمان مى‏آوريد او خود يك ساحر بزرگ و استاد شما در سحر است

درباره محور دوم كه پيامبران را تهمت جادوگرى و سحر مى‏زدند به عنوان نمونه به اين آيات توجه كنيد

وَ قالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِلْحَقِّ لَمَّا جاءَهُمْ إِنْ هذا إِلَّا سِحْرٌ مُبِينٌ (سباء/ 43) كسانى كه درباره حق وقتى به سوى آنها آمد، كافر شدند، گفتند: اين يك سحر آشكار است.

وَ إِنْ يَرَوْا آيَةً يُعْرِضُوا وَ يَقُولُوا سِحْرٌ مُسْتَمِرٌّ (قمر/ 2) و اگر معجزه‏اى ببينند روى برگردانند و بگويند: اين يك سحر نيرومند است.

محورهای دیگر:

غير از دو محور ياد شده، درباره سحر مطالب ديگرى هم در قرآن آمده است مثلًا راجع به ريشه سحر و اينكه سحر را از كجا آموختند، اين آيه جالب توجه است.

وَ ما كَفَرَ سُلَيْمانُ وَ لكِنَّ الشَّياطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ وَ ما أُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبابِلَ هارُوتَ وَ مارُوتَ وَ ما يُعَلِّمانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّى يَقُولا إِنَّما نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلا تَكْفُرْ فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُما ما يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَ زَوْجِهِ ... (بقره/ 102) سليمان هرگز كافر نشد ولى شياطين كافر شدند كه به مردم سحر و جادو ياد مى‏دادند و آنچه بر دو فرشته هاروت و ماروت در بابل نازل شده بود و اين دو به هيچكس ياد نمى‏دادند مگر اينكه مى‏گفتند: همانا ما مايه آزمايش هستيم پس كافر نباش پس، از آن دو فرشته چيزى را ياد مى‏گرفتند كه به وسيله آن ميان مرد و همسرش جدايى مى‏انداختند

همچنين درباره عاقبت شوم ساحران مى‏خوانيم

وَ لا يُفْلِحُ السَّاحِرُ حَيْثُ أَتى‏ (طه/ 69) ساحر هر كجا باشد رستگار نمى‏شود

أَ سِحْرٌ هذا وَ لا يُفْلِحُ السَّاحِرُونَ (يونس/ 77) آيا اين سحر است؟ و ساحران رستگار نمى‏شوند.

اقسام سحر نزد علماء و مفسران:

صاحب تفسیر اثنی عشر می گوید :

اقسام سحر: سحر اقسام بسيار دارد

1: سحر كلدانيها ستاره پرستان.

2: تقدير خيرات و شرورات و سعادت و نحوسات بوسائط قواى فعاله بسيطه و مركبه.

3: سحر اصحاب اوهام و نفوس قويه.

 4: استعانت به ارواح ارضيه مانند تسخير جن و شياطين.

5: چشم بندى.

6: شعبده و نيرنگ.

7: استعانت به خواص ادويه و دود و مسكر و چرس و بنگ و استعمال چيزهائى كه عقل را زايل كند.

 8: تعليق القلب (ادعاى علم كيميا و سيميا و غير آن).

9: تسخير ملائكه.

10: تسخير ارواح و تمام اينها به هر طريق باشدحرام است: از تكلم، نوشتن، رقيه، دخنه (دود كردن) عقده (گره زدن)، تصوير، نفث (دميدن)، و عزائم به آنچه فهميده نشود معناى آن.[7]

صاحب تفسير روان جاويد در مورد اقسام سحر نقل می کند شيخ انصارى رح از علامه مجلسى قدس سره نقل فرموده كه اقسام سحر هشت است[8]. (آن هشت اقسام همان اقسام مذکوره است)

صاحب تفسیر مخزن العرفان اقسام سحر که معروف و متداول نزد اهل آنهاست از اين قرار میداند

1: علم "شيميا" است (علمی است مربوط به تصرف در خيال كه آن را سحر عيون نامند

2: "ليميا" چنين علمى را فن تسخيرات نامند

3: "هيميا" و آن علمى است كه بحث ميكند از كيفيت تركيب قواى عالم علوى با عناصر سفليه و عجائبى كه از آن پديد ميگردد بمعنى طلسم

4: "ديميا" و آن علمى است كه بحث مى‏كند از چگونگى استخدام نمودن قواى ماديه بطورى كه در حس پديد گردد آثار خارق العاده‏اى و اين قسم از سحر را شعبده گويند.

5: علم «كيمياء» [9]. وغیره

سحر در روایاتو حکم شرعی :

درباره سحر در روايات معصومين (ع) نيز مطالب متعددى آمده است

(1) پيامبر عاليقدر اسلام صلّى اللّه عليه و آله و سلّم ميفرمايد : من مشى الى ساحر، او كاهن، او كذاب يصدقه فقد كفر بما انزل اللّه .. يعنى كسيكه بسوى ساحرى  يا فالگوئى يا دروغگوئى برود و او را تصديق نمايد تحقيقا به آنچه كه خدا نازل كرده كافر شده است[10].

(2) پيامبر اعظم اسلام صلّى اللّه عليه و آله و سلّم مى‏خوانيم كه فرموده: اجتنبوا الموبقات السبع: 1- الشرك باللّه 2- و السحر 3- و قتل النفس التى حرم اللّه الا بالحق 4- و اكل الربا 5- و اكل مال اليتم 6- و التولى يوم الزحف 7- و قذف المؤمنات الغافلات- روح : يعنى از هفت گناه نابود كننده بر حذر باشيد: 1- شريك براى خدا قرار دادن 2- سحر و جادو كردن 3- كشتن انسانى كه خدا آنرا حرام نموده، مگر به حق 4- خوردن پول نزولى و ربا 5- خوردن مال يتيم 6- فرار از صحنه جهاد في سبيل اللّه 7- تهمت زدن به زنان پاكدامن و مؤمن كه از فكر و توجه به زنا غافل باشند[11].

(3) بعضى از روايات در تفسير آيه مربوط به هاروت و ماروت است و اينكه آنها دو فرشته بودند كه پس از نوح به فرمان خدا به زمين آمدند و اين در زمانى بود كه سحر و جادو زياد شده بود و مردم از دست ساحران به ستوه آمده بودند و زندگى آنها به تنگ افتاده بود

اين دو فرشته مأموريت داشتند كه به مردم باطل السحر ياد بدهند و به آنها بياموزند كه چگونه سحرها را باطل كنند اين امر مستلزم آن بود كه آنها نخست با سحر آشنا بشوند سپس آن را باطل كنند. دو فرشته به هنگام ياد دادن باطل السحر به آنها تذكر مى‏دادند كه نكند از آموخته‏هاى ما سوء استفاده كنيد و كافر شويد

ولى بعضى از آنها سوء استفاده مى‏كردند و از آنها سحر مى‏آموختند و با سحر خود ميان خانواده‏ها تفرقه مى‏انداختند[12].

(4) در بعضى از روايات هم حكم فقهى سحر و اينكه تعليم و تعلّم و به كار بردن آن حرام است، مطالبى آمده است

انّ عليّا (ع) قال: من تعلّم شيئا من السحر قليلا او كثيراً فقد كفر و كان آخر عهده بربّه و حدّه ان يقتل الّا ان يتوب[13]. على (ع) فرمود: كسى كه چيزى از سحر بياموزد كم باشد و يا زياد، كافر شده است و اين پايان ارتباط او با خداست و حد او اين است كه كشته شود مگر اينكه توبه كند

(5) قال رسول الله (ص): ساحر المسلمين يقتل و ساحر الكفّار لا يقتل قيل يا رسول الله لم لا يقتل ساحر الكفار؟ قال: لأن الشرك اعظم من السحر لأنّ السحر و الشرك مقرونان[14]. پيامبر خدا فرمود: ساحر مسلمانان كشته مى‏شود ولى ساحر كفّار كشته نمى‏شودگفته شد: اى پيامبر خدا چرا ساحر كفار كشته نمى‏شود؟ فرمود: چون شرك از سحر بزرگتر است و شرك و سحر به هم نزديكند

از اين روايات و روايات مشابه ديگر حرمت شديد سحر و تعليم و تعلّم آن به خوبى معلوم است و روشن مى‏شود كه از ديدگاه اسلام، سحر و جادو آنچنان مطرود و منفور است كه آن را در حكم كفر دانسته‏اند هم در آيه مربوط به هاروت و ماروت از سحر به عنوان كفر ياد شده و هم در روايتى كه از حضرت على (ع) نقل كرديم ساحر به منزله كافر دانسته شده است.

(6) برای محفوظ ماندن از سحر آمده است که امام صادق عليه السّلام فرمودند: كسى كه سوره جن را زياد بخواند، هيچ گاه دچار چشم زخم، سحر، جادو و مكر جنّ نخواهد شد؛ همراه با حضرت محمد صلّى اللَّه عليه و آله و سلّم خواهد بود و خواهد گفت: پروردگارا! من جز همراهى با حضرت رسول صلّى اللَّه عليه و آله و سلّم، چيز ديگرى نمى‏خواهم[15].

همچنين طبق اين روايت حدّى كه بر ساحر جارى مى‏شود بسيار شديد است و آن اينكه بايد او را كشت.

البته بعضى از فقهاء ما اين حدّ را در صورتى لازم مى‏دانند كه ساحر علاوه بر انجام عمليات سحرآميز آن را حلالبشمارد[16].گويا اين گروه از فقهاء روايات را حمل بر مستحلّ سحر كرده‏اند. مرحوم آية الله خوئى از بعضيها نقل مى‏كند كه مراد از ساحرى كه حكم آن قتل است كسى است كه سحر را براى خود شغل و حرفه قرار دهد ولى آن را ردّ مى‏كند به اينكه در روايت پيامبر سحر با شرك نزديك هم شمرده شده است[17].

 با توجه به روايات و مطالب ياد شده، حرام بودن سحر و تعليم و تعلّم آن بسيار روشن است و مورد اجماع فقهاء ماست و بيشتر فقها چه در مكاسب محرمه و چه در بحث حدود به اين معنا تصريح كرده‏اند كه از جمله آنهاست ابن ادريس[18]. محقق[19]. و علامه حلى و محقق كركى[20]. و صاحب جواهر[21]. و ديگران كه همگى به حرمت سحر و تعليم و تعلّم آن فتوا داده‏اند.

جواز تعلیم و تعلم سحر:

مطلبى كه بايد در اينجا به ذكر آن بپردازيم اين است كه در چند مورد يادگيرى سحر جائز مى‏شود:(1) يكى براى ابطال سحر و مقابله با ساحران. و اين همان كارى بود كه هاروت و ماروت انجام مى‏دادند

(2) ديگرى براى دفاع از معجزه پيامبران و روشن كردن اينكه معجزه با سحر فرق دارد.

يادگيرى سحر به خاطر اين گونه هدفها جايز است و حتى صاحب جواهر آن را در صورتى كه فرق گذارى ميان سحر و معجزه متوقف بر آن باشد، واجب مى‏داند و حتى يادگيرى آن را به عنوان يك علم جايز مى‏شمارد[22].

در مورد جواز يادگيرى سحر براى دفع شرّ ساحران روايتى از امام صادق (ع) داريم به اين شرح :

عيسى بن شقفى ساحرى بود كه سحر مى‏كرد و از مردم پول مى‏گرفت او روزى نزد امام صادق (ع) آمد و گفت: فدايت شوم من مردى هستم كه شغلم جادوگرى بود و براى آن پول مى‏گرفتم و معاش من از آن بود و با آن حج كرده‏ام و اكنون خداوند بر من منّت گذاشته كه به خدمت شما رسيده‏ام و من از اين كار توبه كرده‏ام آيا برايم راه نجاتى

وجود دارد؟ امام صادق (ع) فرمود: باز كن و نبند[23].از اين روايت فهميده مى‏شود كه باز كردن سحر به وسيله سحر ديگر جايز است.

فرق بین معجزه و سحر

اینجا مناسب به نظر می رسد فرق بین معجزه و سحر بیان بشود

صاحب تفسیر مخزن العرفان در تفسير خود این فرق خوب مطرح نموده است.ایشان در اینجا یک اعتراض در مورد سحر ساحر مطرح می کند و جواب آن را در ضمن جواب داده ایشان ذکر می کند که:

اعتراض: چگونه ميتوان بعمل ساحر اعتماد نمود و آن را يك امر واقعى پذيرفت در صورتى كه بدلالت عقل و شهادت كتب الهى كليه انواع و اقسام سحر باطل است.

و در آیه مباركه  102 سوره بقره : وَ لكِنَّ الشَّياطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْر....  نسبت سحر را بشياطين داده و شياطين را باين عمل كافر معرفى نموده .ودر جاى ديگر سوره اعراف آيه 113 سَحَرُوا أَعْيُنَ النَّاسِ وَ اسْتَرْهَبُوهُمْ  ساحر را مذمت نموده .

و نيز ساحر از دروغگويان بشمار ميآيد زيرا كه همان مفسده دروغ كه (اغراء بجهل) و نشان دادن خلاف واقع باشد در عمل آنها نمودار است و بر دروغ و عمل دروغ اعتماد نتوان نمود.

و نيز اگر عمل ساحر داراى واقعيت و حقيقت باشد فرقى بين سحر و معجزه باقى نمى‏ماند آن وقت بمعجزه نبوت پيمبران ثابت نمى‏گردد و راه عذر براى انكار پيمبرى آنها باقى خواهد ماند كه گفته شود امر براى ما مشتبه گرديد و گمان كرديم معجزه و خارق العاده‏اى كه از پيمبران ظهور و بروز مينمود از قبيل سحر ساحران و تدليس جادوگران است

پاسخ : (مبناء این اعتراض بنا بر فرق نداشتن بين سحر و معجزه است جواب این اعتراض در بیان کردن فرق بین این دو است)

فرق بين سحر و معجزه از چند راه است

1: عمل ساحر اگر واقعيتى پيدا كند پس از رياضات شاقه و عمليات بسيار مشكل كه تحمل آن نوعا براى عموم مردم مشكل بلكه بنظر محال مينمايد انجام مى‏گيرد و معجزه پيمبران ناشى از عنايت ربانى است كه خلقت آنها سرشته شده از عالم نور و از مقام عليين است و در اظهار معجزه فقط از عالم الهى استمداد ميطلبند، و اگر چه پيمبران نيز قبل از تحمل نبوت و پس از آن چنانچه نقل ميكنند رياضاتى داشتند لكن رياضت آن بزرگواران در عبادت و بندگى خداوند بوده نه براى جهات نفسانى و انتفاعات مادى دنيوى بلكه كوشش آنها در فناء فى اللَّه و از خودگذشتگى است اين بود كه مظهر و نماينده صفات الهى گشتند و كرامات خود را مستند بحق مينمودند نه بخود.

2: عمل ساحر با نوع عمل انبياء تفاوت بسيار دارد غالبا عمل ساحر تصرف در قوه خيال و قوه واهمه است كه از طريق حواس ظاهره يا غير آن آنچه همت بر آن گماشته در قوه خيال حاضرين مجسم ميگرداند نه اينكه واقعا بتواند تصرف در مواد موجودات كند و حقيقتا تغيير شكل دهد يا معدوم را موجود يا موجود را معدوم گرداند فقط هستى بخش خدا است و بس و تمكن پيمبران در مواد و تغيير شكل دادن اشياء بقدرت ربانى و خواست الهى انجام ميگيرد منتهى الامر خداوند براى اثبات رسالت امور خارق العاده‏اى بدست آنها جارى ميگرداند و اگر فرضا بندرت از ساحرين كسى پيدا شود كه بتواند اندك تصرفى در مواد كند اگر در بدن خود اوست آن از طريق قوت نفسانى و غلبه قوه ارادى وى است كه از طريق رياضات و ترك مشتهيات طبيعى ممكن است نفس غالب بر طبيعت گردد و در بدن خود تصرف كند مثل اينكه روى آب راه رود و در هوا بدون وسائل خارجى بپرد و اگر تصرف در بدن غير از انسان يا حيوان باشد شايد آن نيز از راه تصرف در قوه خيال او باشد كه بقوت اراده‏اى كه در اثر رياضات وى را پديد گشته اولا تصرف در خيال آن شخص مينمايد و در قوه واهمه وى آنچه مراد او است القاء ميگرداند آن وقت از راه وهم تسلط مى‏يابد در بدن وى و او را تحت تسخير خود در مى‏آورد و امر خارق العاده‏اى اظهار مينمايد.

3: سحر غالبا با اسباب خارجى انجام ميگيرد و منوط بعملياتى است كه نزد اهلش معلوم است لكن معجزه محتاج بوسائل خارجى نيست بمحض اراده نبى كه مظهر و نماينده اراده و قدرت الهى است انجام ميگيرد.

4: سحر چون از قوه نفسانى ساحر پديد گشته محدود بوقت بخصوص و مقيد بعمل مخصوص است لكن معجزه پيمبران چون از قوت الهى و فيض ربانى پديد گشته محدود بحد خاص و مقيد بوقت بخصوصى نيست اين است كه پيمبران در مواد عالم تصرف مينمايند و باراده حق تعالى كار خدايى ميكنند.

5: ممكن نيست سحر با معجزه مقابلى نمايد و در برابر آن عرض اندام نمايد كه بزودى معجزه سحر را معدوم و مضمحل ميگرداند زيرا كه سحر بمنزله ظلمت است و از تصرفات نفسانى بعمل آمده و معجزه نور است و از مقام شامخ عقل پديد گرديده وقتى نور آمد ظلمت را نابود ميگرداند وَ قُلْ جاءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْباطِلُ إِنَّ الْباطِلَ كانَ زَهُوقاً[24]. بگو آمد حق و ناچيز شد باطل محققا باطل ناچيز است . اين بود در موقعى كه سحره فرعون سحر خود را در معرض نمايش در آوردند، جناب موسى (ع) بامر خداى تعالى عصاى خود را انداخت و عصا بصورت اژدها بر آمد و فرو برد آنچه را سحره بدروغ نمايش داده بودند چنانچه اشاره بآن دارد قوله تعالى فَأَلْقى‏ مُوسى‏ عَصاهُ فَإِذا هِيَ تَلْقَفُ ما يَأْفِكُونَ[25].

6: اگر ساحر عملى كند كه مشتبه گردد بمعجزه پيغمبران و بآن عمل مدعى پيغمبرى گردد از راه لطف براى خداوند لازم است او را رسوا گرداند تا آنكه دروغش ظاهر گردد و گر نه حجت بر مردم تمام نشده[26].

در مورد مسحور شدن پیامبر اکرم (ص)

در سوره فلق آیه  وَ مِنْ شَرِّ النَّفَّاثاتِ فِي الْعُقَدِ

اشکال :

اين تعبير آيه- النَّفَّاثاتِ- فِي الْعُقَدِ و فعل «اعوذ» كه عوذ و تعويذ، از مشتقات آنست، اذهان را به كارهاى جادوگرانه زنان متوجه نموده، بخصوص در آن زمان و در ميان مردم جاهليت كه جادوگرى و كهانت و تعويذ به مهره و سنگ و چوب براى ابطال جادو، رائج بوده. و چون مأمور به امر «قل» شخص رسول اكرم «ص» بوده اين توهم پيش آمده كه آن حضرت در معرض سحر و جادو بوده است. روايتى هم كه آورده شده اين توهم را تأييد نموده و بيش از اين آن حضرت را چند روز مسحور كار جادوگران نشانداده است

اينگونه توهمات منافى مقام نبوت و عصمت و سيره قطعى رسول اكرم «ص»است، چه

جواب :

اولا :  اگر آن حضرت در معرض تأثير جادوگران و تصرفات و تلقينات روحى آنها كه دچار نقص جسمى و انحراف روحى و خلقى بودند. قرار ميگرفت اساس و تكيه‏گاه وحى و رسالت سست و بى‏پايه ميشد. تاريخ روشن زندگى آن حضرت نشان ميدهد كه از آغاز طفوليت تا پايان زندگى، انديشه‏ها و خاطرات و اعمالش تحت مراقبت و در ميان حصن عصمت بوده است. و تأثير روانى سحر و جادو را نبايد مانند تأثير بيماريهاى بدنى دانست. و اگر سحر و كهانت در روح آن حضرت تأثير مينمود، با آن همه كاهنان و ساحرانى كه در عربستان و اطراف آن بودند و با آن همه دشمنى‏ها و مقاومتها، در روح مقدس آن حضرت تصرفى مينمودند تا از اعلام نبوت و ابلاغ رسالتش جلوگيرى نمايند

ثانيا- آيه وَ اللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ- آيه 7 سوره 5 بآن حضرت وعده داده

كه از هر آسيبى نگاهش دارد و آيات: وَ قالَ الظَّالِمُونَ إِنْ تَتَّبِعُونَ) إِلَّا رَجُلًا مَسْحُوراً- انْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوا لَكَ الْأَمْثالَ فَضَلُّوا فَلا يَسْتَطِيعُونَ سَبِيلًا- از آيه 47 سوره 17 و 8 سوره 25»، اين گفته را كه پيمبر مسحور شده بظالمين نسبت داده و آن را گمراهى و تحير درباره نبوت شمرده است. و آيه 69- 20 ... وَ لا يُفْلِحُ السَّاحِرُ حَيْثُ أَتى‏- رستگارى و پيروزى ساحر را از هر جهت كه روى آورد، و نيز آيه 102- 2: ... وَ ما هُمْ بِضارِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ ... زيان رساندن ساحران را جز باذن خدا- نفى نموده است.

ثالثا- روايتى كه راجع به مسحور شدن رسول اكرم «ص» بعضى آورده‏اند بيش از آنكه مضمونش مختلف است و اسنادى جز نسبت به عايشه و ابن عباس براى آن ذكر نشده، از نظر اماميه و بيشتر راويان اهل سنت و متكلمين معتزله مردود است[27].

 

منابع و مآخذ :

 (1) قرآن کریم

(1) کتب های تفسیری که حواله ها داده شده

باالخصوص تفسیر كوثر، ج‏1، ص: 303 تا 309.

 

جامع المقاصد ج 4 ص 29 [1]

بحار الانوار ج 10 ص 169 [2]

برگرفته از : أنوار العرفان في تفسير القرآن، ج‏2، ص: 417[3]

انوار درخشان، ج‏1، ص: 273  [4]

حجة التفاسير و بلاغ الإكسير، ج‏1، ص: 80 [5]

أنوار العرفان في تفسير القرآن، ج‏2، ص: 418- [6]

تفسير اثنا عشري، ج‏1، ص: 216 [7]

 تفسير روان جاويد، ج‏1، ص: 154[8]

برای تفصیل و تعاریفات رجوع شود: مخزن العرفان در تفسير قرآن، ج‏2، ص: 11-12 [9]

[10]تفسير آسان، ج‏5، ص: 298

[11]تفسير آسان، ج‏14، ص: 57

چندين روايت از معصومين است رجوع شود به: وسائل الشيعه ج 12 ص 106 [12]

وسائل الشيعه ج 2 ص 107 [13]

وسائل الشيعه ج 12 ص 106 [14]

ثواب الأعمال و عقاب الأعمال / ترجمه بندرريگى، ص: 259[15]

جامع المقاصد ج 4 ص 29 (متن قواعد) [16]

مبانى تكملة المنهاج ج 1 ص 267 [17]

سرائر ج 2 ص 218 [18]

المختصر النافع ص 117 [19]

جامع المقاصد ج 4 ص 29[20]

جواهر الكلام ج 22 ص 75[21]

جواهر الكلام ج 22 ص 79[22]

وسائل الشيعه ج 12 ص 106[23]

سوره بنى اسرائيل آيه 83[24]

 سوره شعراء آيه 44[25]

 مخزن العرفان در تفسير قرآن، ج‏2، ص: 10-11[26]

پرتوى از قرآن، ج‏4، ص: 309 [27]

برچسب: نویسنده: تعلیم رضا جعفری تاريخ: 17 / 7 ساعت: 5:30 AM

بسمه سبحانه تعالی

ترک اولی در اسلام

 

خداوند بزرگ برای هدایت بشریت در طول تاریخ انبیاء اولیاء و پیامبران را فرستاد. برای سعادت و هدایت بر ما لازم است که ما اول پیامبران الهی را بختر بشناسیم و بعدا به تعلیمات آنها گوش بدهیم. وقتی ما در این قدم می گزاریم به خیلی چیزهای جالبی مواجه می شویم .

در این چیزها یک باب اعتراضات بر انبیا هست که در هر زمان مطرع بودند. برخی بر تعلیمات آنها و برخی بر شیوه تبلیغات آنها مشکل ایجاد می کردند. بعضی زندگی اجتماعی آنها و بعضی بر خود شخصیت آنان را مورد هجوم و سوال قرار دادند.

در بین اعتراضات و اشکالات یک مطلب بر عصمت پیامبران و اولیاء الهی هست یعنی معترضین می گویند که ما در حوادٍث تاریخ خواندیم و در قرآن می خوانیم انبیا دچار اشتباه شده بودند چنانکه در مورد حضرت آدم ع می خوانیم که :

وَعَصى‏ آدَمُ رَبَّهُ فَغَوى.آدم پروردگارش را نافرمانى كرد و از پاداش او محروم شد[1].

همین طور درمورد حضرت موسی ع آمده است که : قالَ رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي فَغَفَرَ لَهُ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيم . موسى گفت: پروردگارا! به راستى كه من به نفس خويشتن ظلم كردم، پس تو مرا بيامرز، خدا او را آمرزيد. به راستى كه خدا فوقالعاده آمرزنده و مهربان است[2].

همین طور در مورد یونس ع آمده است : فَنادى‏ فِي الظُّلُماتِ أَنْ لا إِلهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ:  يعنى يونس در تاريكى شكم ماهى ندا كرد و گفت: پروردگارا! خدائى غير از تو وجود ندارد، تو پاك و منزه هستى، من از ستمكاران مى‏باشم.[3]

علاوه بر این موارد موارد دیگر هم هست که در آن نسبت "ذنب" (گناه) به انبیا داده شده است . و در دعاها و مناجات فراوانی از آئمه ع نقل شده. اعترافات زیادی بگناه و تقصیر و عصیان و امثال آن دیده می شود که هنگام مناجات از خداوند طلب عفو گذشت آن کرده اند.

جواب اول:

گناه بر دو گونه است،" گناه مطلق" و" گناه نسبى"، گناه مطلق همان مخالفت نهى تحريمى و مخالفت با فرمان قطعى خداوند است و هر گونه ترك واجب و انجام حرام را شامل مى‏شود.

اما گناه نسبى آن است كه عمل غير حرامى از شخص بزرگى سرزند، كه با توجه به مقام و موقعيتش شايسته او نباشد، ممكن است گاهى انجام يك عمل مباح و حتى مستحبّ درخور مقام افراد بزرگ نباشد در اين صورت انجام آن عمل،" گناه نسبى" محسوب مى‏شود، مثلا اگر شخص با ايمان و ثروتمندى براى نجات فقيرى از چنگال فقر، كمك بسيار مختصرى كند، شك نيست كه اين كمك هر چند ناچيز باشد، كار حرامى نيست بلكه مستحبّ است، ولى هر كس آن را بشنود مذمت مى‏كند آن چنان كه گويى گناهى مرتكب شده است و اين به خاطر آن است كه از چنان انسان ثروتمند و با ايمانى انتظار بسيار بيشترى مى‏رود.

در تمام امور اجتماعی، اخلاقی، علمی، تربیتی و دینی انتظاراتی که از افراد مختلف می رود همه یکسان نیست. انتظاراتی که از هر کس می رود بسته با امکانات او یعنی عقل او دانش او ایمان او و بالآخر قدرت و توانائی اوست به همين نسبت، اعمالى كه از بزرگان درگاه پروردگار سرمى‏زند، با موقعيت ممتازشان سنجيده مى‏شود.به همین دلیل يك لغزش كوچك و يا صريحتر كه گناه و معصيتى هم محسوب نمى‏شد. از پيامبران و اولياى حق چه بسا سبب مى‏شود كه خداوند، گوشمالى دردناكى به آنها بدهد، و گاهى با مقايسه به آن كلمه" عصيان" و" ذنب" (گناه) بر آن اطلاق مى‏گردد، فى المثل نمازى كه ممكن است از يك فرد عادى، نماز ممتازى باشد براى اولياى حق، گناه محسوب شود، زيرا يك لحظه غفلت در حال عبادت براى آنها شايسته نيست، بلكه بايد با توجه به علم و تقوى و موقعيتشان به هنگام عبادت غرق در صفات جلال و جمال خدا باشند.

ساير اعمال آنها غير از عبادات نيز چنين است، و با توجه به موقعيت آنها سنجيده مى‏شود و مورد عتاب و سرزنش پروردگار قرار مى‏گيرند به همین وجه یک سو در بعضی مقامات افراد ساده نسبت به اولیا و انبیا خدا این خیال را باور دارند که آنها هم دچار اشتباه شده اند.و از سوی دیگر معاندان و مخالفان اسلام هم اعتراض دارند که انبیا و اولیا هم مثل مردم مرتکب گناهان شدند و در مورد سوانح و زندگانی آنان اشتباهات و خطاهای آنان نقل شده.

جواب دوم :

مقام عصمت انبیاء و اولیا الهی همراه با وظائف بسیار عظیم (تعلیم و تربیت انسانها و حفظ و اجراء قوانین الهی) هم تقاضا دارد که اینها حتما از گناهان مطلق (که به معنی واقعی گناه اند) کاملا پاک و مصون بمانند. درباره انبیاء و اولیاءهای خدا عصمت کاملا از هر لحاظ ثابت است لذا تصور هیچ گناهی برای آنان نادرست است

دلایل عصمت اولیاء و انبیاء

اینجا لازم است به اختصار دلایل عصمت را هم ذکر کنیم

  1. در همین قرآن آیات زیادی داریم که بر عصمت و طهارت انبیاء و پاکی از گناه دلالت دارد . بعنوان مثال «إِنَّ اللَّهَ اصْطَفى‏ آدَمَ وَ نُوحاً وَ آلَ إِبْراهِيمَ وَ آلَ عِمْرانَ عَلَى الْعالَمِينَ»در این آیه بوضوع پاکی و صفاء انبیاء اعلان شده است.

  1. عوامل گناه در وجود آنها محکوم بشکست است برای اینکه آنان کاملا عاقبت هر گناه را می دانند و بر شهوات خود غالب اند لذا امکان کوچک ترین خطا و اشتباه ندارند. مثل اینکه ما حقیقت و عاقبت دست زدن به آتش را می دانیم لذا هرگز آماده این کار نمی شویم.

  2. اگر انبیا و پیامبران اله معصوم نباشند اعتماد بگفتار و کردار آنها نخواهد بود.

  3. اگر پیامبران معصوم نباشد هدف تربیتی آنها عقیم خواهد ماند.

جواب سوم:

اگر از پيغمبر گناهصادر شود لازم آيداجتماع ضدين، وجوب متابعت و مخالفت او. اما اول: اجماع و آيه:: قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ. و چون ثابت شود در حق پيغمبر ما صلّى اللّه عليه و آله و سلّم ثابت گردد در حق باقى انبيا به جهت عدم قائل بالفرق. اما ثانى: بدليل آنكه متابعت عاصى حرام است.

2- اگر پيغمبر عاصى باشد، هر آينه از ظالمين خواهد بود و حال آنكه حق تعالى فرموده: لا يَنالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ[4]. فخر رازى گويد: مراد به اين عمد يا عهد نبوت يا عهد امامت است اگر اولى باشد، ثابت شود مطلوب و اگر ثانى باشد ايضا همچنين زيرا هر نبى لابد امام و مقتدا باشد، پس آيه بر هر تقدير دلالت دارد كه نبى گناهكار نخواهد بود.

3- اگر نبى معصيت نمايد، لازم آيد منع و زجر و انكار او به جهت عموم ادله امر به معروف و نهى از منكر، و لكن حرام است به جهت استلزام ايذائى كه حرام است به اجماع و به دليل آيه: إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَ رَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيا وَ الْآخِرَةِ[5].

4- خداى تعالى حكايت فرموده از ابليس: فَبِعِزَّتِكَ لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ إِلَّا عِبادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ[6].پس اگر نبى عصيان نمايد، هر آينه از مغوين شيطان و مخرجين از مخلصين خواهند بود با آن كه انبيا از مخلصينند به جهت اجماع و آيه: وَ اذْكُرْ عِبادَنا إِبْراهِيمَ وَ إِسْحاقَ وَ يَعْقُوبَ أُولِي الْأَيْدِي وَ الْأَبْصارِ إِنَّا أَخْلَصْناهُمْ بِخالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِ وَ إِنَّهُمْ عِنْدَنا لَمِنَ الْمُصْطَفَيْنَ الْأَخْيارِ[7].و چون ثابت شود وجوب عصمت در بعض، ثابت گردد در كل بهجهت عدم قائل به فرق[8].

جواب چهارم:

در مواردی که به خطای انبیاء اشتباه شده است ما روایات هم داریم که در آنها به این موضوع جواب های واضح و متقن داده شده است بعنوان مثال روايتى استكه شيخ صدوق در امالى از ابى صلت هروىروايت نموده گفت در مجلسى كه مأمون براى على بن موسى الرضا عليهما السلام تشكيل داده بود از علماى اهل اسلام و ديانات توحيد از يهود و نصارى و از غير دين توحيد از مجوس و صابئين و سائر ملل هر كه از آنان با حضرت رضا عليه السلام احتجاج ميكرد جواب و پاسخ او داده ميشد، پس على بن محمّد بن الجهم شروع باحتجاج نمود عرضه داشت يا بن رسول اللّه آيا بعصمت انبياء معتقد هستى؟ حضرت فرمود بلى عرضه داشت پس مفاد كريمه «وَ عَصى‏ آدَمُ رَبَّهُ فَغَوى‏» چيست؟ حضرت فرمود واى بر تو اى على بن محمّد بترس از پروردگار و نسبت گناه و كار زشت بانبياء مده و تأويل منما كريمه را بر طبق رأى خود زيرا فرمود «وَ ما يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلَّا اللَّهُ وَ الرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ و أمّا كريمه «وَ عَصى‏ آدَمُ رَبَّهُ فَغَوى‏ چنانستكه پروردگار آدم را آفريد كه خليفه و حجّت او بر جامعه بشر باشد و او را نيافريد براى سكونت در بهشت. و واقعه خوردن آدم از شجره منهيّه هنگام سكونت او در بهشت بود نه در زمين، و براى اينكه تقدير فرموده بود كه از بهشت بزمين فرود آيد و او را خليفه بر بشر قرار دهد. و گواهى بعصمت او فرموده در كريمه: «إِنَّ اللَّهَ اصْطَفى‏ آدَمَ وَ نُوحاً وَ آلَ إِبْراهِيمَ وَ آلَ عِمْرانَ عَلَى الْعالَمِينَ»[9].

و در روايات اسلامى دیگر مى‏خوانيم كه گرفتارى يعقوب و كشيدن آن همه زجر فراق فرزند، به خاطر آن بود كه نيازمند روزه‏دارى به هنگام غروب آفتاب بر در خانه او آمد و او از كمك كردن به وى غفلت نمود و آن فقير، گرسنه و دلشكسته بازگشت.

اين كار اگر از يك فرد عادى سرزده بود، شايد آن قدر مهم نبود اما از يك پيامبر بزرگ الهى و رهبر امت آن چنان با اهميت تلقى شد كه مجازات بسيار شديدى از طرف خداوند براى آن تعيين گرديد[10].

نهى آدم از" شجره ممنوعه" نيز يك نهى تحريمى نبود بلكه يك ترك اولى بود، ولى با توجه به موقعيت آدم با اهميت تلقى شد و ارتكاب مخالفت با اين نهى (هر چند نهى كراهتى بود) موجب چنان مؤاخذه و مجازاتى از طرف خدا گرديد.

اين احتمال نيز از طرف بعضى از مفسران داده شده است كه نهى آدم از شجره ممنوعه" نهى ارشادى" بود، نه نهى مولوى توضيح اينكه: گاهى خداوند از چيزى نهى مى‏كند به عنوان اينكه صاحب اختيار انسان و مولاى او است، و اطاعت فرمانش بر هر انسانى لازم است، چنين نهى را" نهى مولوى" نامند، اماگاهى از چيزى نهى مى‏كند، تنها به خاطر اين كه به انسان بگويد ارتكاب اين عمل اثر نامطلوبى براى او دارد، درست همانند نهى طبيب از غذاهاى مضر و زيانبخش، شك نيست اگر بيمار مخالفت دستور طبيب را كند، نه توهينى به او كرده و نه مخالفتى با شخص او نموده است، بلكه ارشاد و راهنمايى او را ناديده گرفته و خود را به زحمت انداخته است.

در مورد داستان آدم نيز خداوند به او فرموده بود كه خوردن از شجره ممنوعه نتيجه‏اش بيرون رفتن از بهشت و افتادن در زحمت و رنج است، اين يك ارشاد است، نه فرمان، و به اين ترتيب آدم تنها مخالفت نهى ارشادى كرد، نه عصيان و گناه واقعى.

ولى تفسير اول صحيحتر به نظر مى‏رسد زيرا نهى ارشادى، احتياج به آمرزش و غفران ندارد، در حالى كه آدم- همانطور كه در آيه بعد مى‏خوانيم- از خداوند تقاضاى غفران و آمرزش كرد، به علاوه دوران بهشت همانطور كه در جلد اول در ذيل آيات مربوط به آدم گفتيم، يك دوران تعليماتى براى آدم محسوب مى‏شد، دوران آشنايى با تكاليف و امر و نهى پروردگار، دوران شناختن دوست از دشمن و دوران ديدن نتيجه عصيان، و مخالفت فرمان خدا، و قبول وسوسه‏هاى شيطان، و مى‏دانيم كه نهى ارشادى در حقيقت تكليف نيست و مسئوليت نمى‏آورد.

در پايان اين بحث يادآور مى‏شويم كه گرچه كلمه" نهى" و" عصيان" و" غفران" و" ظلم"، همه در بدو نظر به معنى گناه مطلق و حقيقى و آثار آن است ولى با توجه به مساله عصمت انبياء كه با دليل عقلى و نقلى ثابت شده، تمام اين تعبيرها، حمل بر" گناه نسبى" مى‏شود، و اين موضوع با توجه به عظمت مقام آدم و ساير انبياء زياد دور از ظاهر لفظ نيست[11].

در روایت دیگر آمده است که حضرت صادق آل محمّد صلّى اللّه عليه و آله و سلّم ميفرمايد: راستگوى واقعى و حقيقى آن كسى است كه به جهت صداقت و راستگوئى كه خودش دارد هر شخص كاذب را تصديق مى‏نمايد. و اين همان معنائى است كه جز آن، يا ضد آن يك چنين وسعتى نخواهد داشت. نظير حضرت آدم عليه السّلام. زيرا كه ابليس سوگند دروغ براى آن بزرگوار ياد كرد آنحضرت براى اينكه خودش دروغگو نبود سوگند دروغين ابليس را صدق و راست تلقى نمود. و در باره حضرت آدم است كه خدا ميفرمايد (وَ لَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْماً) يعنى ما تصميم و عزم دروغ گفتن در وجود آدم نيافتيم.

و از سوى ديگر: ابليس اولين كسى بود كه دروغ گفتن را آغاز كرد و آنرا رواج داد، در صورتى كه دروغ تا آن هنگام غير معمول و غير معهود بود. ابليس دروغ را آشكار و اظهار كرد در صورتى كه غير مشروع بود.

دروغ تا آن هنگام، نزد اهل آسمانها و زمين معروف و شناخته شده نبود، نه ظاهرا، و نه باطنا. و ...

و در حديث ديگرى آمده: هنگامى كه به حضرت آدم گفته شد: چرا فريب وسوسه و دروغ ابليس را خوردى!؟ فرمود:چون من هيچگاه به ذات مقدس پروردگار سوگند دروغ نخورده و نمىخورم لذا باور نمى‏كردم ابليس لعين به خدا سوگند دروغ ياد كند

دو اشکال

در اینجا دو سوال پیش می آید

اشکال اول:

چه دلیل دارد که این خطاهای که در قرآن و تاریخ نقل شده گناه مطلق نبوده بلکه ترک اولی (گناه نسبی) بوده اند.

اشکال دوم:

 اگر گناهان نسبی بودند پس چرا آنان دست به توبه می زدند و استغفار می کردند

جواب اشکال اول

در این هم خیلی جواب های داده شده اند به بعضی از آنها این طور اند :

  1. همان دلایل عصمت بطور قطع بما می گوید که پیشوایان بزرگ دینی ممکن نیست مرتکب خطاهی شوند این خطا برای آنان گفته شد آن ترک اولی است.

  2. تعبیرات که خطای آنان را بیان می کنند این تعبیرات خود شواهدی وجود دارد که می رساند منظور از خطاها ترک اولی است.

  3. موقعیت و حالات انبیاء و اولیاء نیز قرینه دیگری بر این مطلب محسوب می شود.

جواب اشکال دوم:

در توبه انبياء چند وجه ذكر شده:

1- بر سبيل خضوع و انقطاع باشد.

2- به جهت ارشاد ذريه و امت است تا اقتفا و اقتدا به ايشان نمايند.

3- توبه از ترك اولى مانند ترك مندوبات و اشتغال به مباحات، چنانچه صاحب كشف الغمه فرموده: چون اكثر اوقات ايشان به ياد خدا و خواطر آنان به ملاء اعلى مصروف است، پس گاهى كه از آن مرتبه نزول كنند و به مباحات مشغول شوند مثل خوردن و آشاميدن و غيره، اينها را نسبت به مرتبه سابقه گناه ناميده و از آن استغفار نمايند كه: حسنات الابرار سيّئات المقرّبين.

4- آنكه مراتب معرفت غير متناهى و انبياء و اولياء پيوسته در حصول كمالات و صعود بر معارج ترقيات در ساعتى از ساعات بلكه هر آنى از آنات در درجه‏اى از مراتب ايقان برمى‏آيند كه مرتبه سابقه را نسبت به اين مرتبه قاصر مى‏شمارند، و عبادتى كه در آن حالت واقع شده خود را از آن عبادت مقصر مى‏نامند، و استغفار و توبه نمايند.

5- شيخ طبرسى فرمايد: چون معنى توبه رجوع است، پس معنى آيه چنين شود كه رجوع كن بر ما به مزيت رحمت و مثوبت بر اعمال مأموره. و نمى‏شود كه مراد قبول توبه از گناه باشد، زيرا انبياء معصومند از جميع گناهان صغاير و كبائر از اول عمر تا آخر، و در هيچ حالى موصوف به نقص و عصيان و جهل نيستند[12].


 سوره طه:121.[1]

سوره قصص: 16.[2]

سوره انبیاء:16.[3]

سوره بقره، آيه 124.[4]

سوره احزاب، آيه 57.[5]

سوره ص، آيه 82 و 83.[6]

سوره ص، آيات 45 تا 47.[7]

تفسير اثنا عشري، ج‏4، ص: 36[8]

[9]انوار درخشان، ج‏1، ص: 131

نور الثقلين جلد دوم صفحه 411 نقل از كتاب علل الشرائع.[10]

تفسير نمونه، ج‏6، ص: 123-125[11]

[12]تفسير اثنا عشري، ج‏1، ص: 257

برچسب: نویسنده: تعلیم رضا جعفری تاريخ: 17 / 7 ساعت: 5:22 AM

صفحه بندی